165

وزیراعظم شاہد خان عباسی نے او آئی سی اجلاس میں کروڑوں مسلمانوں کی امنگوں کے عین مطابق شاندار اعلان کر دیا

استنبول(این این آئی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان فلسطینی عوام اور ان کی جائز جدوجہد کی دوٹوک حمایت کرتا ہے ، امریکہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ فوری منسوخ کرے ،اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے دو ریاستی حل کا ازسرنو اعادہ کرے، فلسطینی عوام کیلئے القدس شریف کے دارالحکومت کیساتھ ایک خود مختار ریاست کا قیام واحد حل ہے ،مسئلہ کشمیر کے معاملہ پر بھیسلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ کر کے کشمیری عوام کی اپنی آزادی کیلئے منصفانہ جدوجہد کو دہشت گردی کا رنگ دینے کی کوشش کی


جا رہی ہے، اپنی سیاسی، اقتصادی، مواصلاتی اور تکنیکی کمزوریوں پر قابو پائے بغیر ہم اپنے بھائیوں کا پائیدار دفاع کرنے سے قاصر ہوں گے ،خواہ وہ فلسطین میں ہوں یا کشمیر میں، او آئی سی سربراہ اجلاس امریکہ کے نظرثانی شدہ فیصلہ کو متفقہ طور پر مسترد کرے، دنیا بھر کے مسلمان انصاف اور آزادی کیلئے اکٹھے ہوں، ہمیں عالمی برادری میں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرنیوالوں کیساتھ مضبوطی سے کھڑا ہونا ہے۔ ہمیں سیاسی اختلافات کو ختم ،خوبیوں کو مجتمع کر کے مربوط پروگرام اور مشترکہ اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے یہ بات بدھ کو القدس شریف کے حوالے سے ہونیوالے او آئی سی کے غیر معمولی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیراعظم نے القدس شریف پر او آئی سی کا غیر معمولی سربراہ اجلاس بلانے پر ترک صدر طیب اردوان اور ترکی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر معمولی وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد الاقصیٰ کی بے حرمتی کے بارے میں 1969ء کی رباط سربراہ کانفرنس نے یہ امید پیدا کی تھی کہ فلسطینی عوام سے ہونیوالی ناانصافیوں اور مسلم دنیا کو درپیش تمام مسائل کے حوالہ سے مسلم امہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے اس کا متحد ہو کر جواب دیگی لیکن آج ہم ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں،انہوں نے کہا کہ آج ہر مسلمان کے ذہن میں سوال ہے کہ آیا ہم اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر بھی سوچیں گے ،ہم متحد ہو کر اپنے عوام کو امید کا پیغام دیں گے یا پھر موثر اقدامات میں نہ ڈھل سکنے والے اعلامئے منظور کرینگے، انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا نام نہاد دارالحکومت تسلیم کرنے اور سفارتخانہ کو تل ابیب سے مقدس شہر منتقل کرنے کا امریکی فیصلہ عالمی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں بالخصوص قرارداد 476 اور 478 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقدس شہر کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی صریح کوشش ہے۔انہوں نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے اس فیصلہ کی پرزور مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پارلیمنٹ یعنی سینیٹ و قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر انہی جذبات کا اظہار کیا ہے، ہم فلسطینی عوام اور ان کی منصفانہ جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنا فیصلہ منسوخ کرے اور سلامتی کونسل کی تمام لاگو قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے دو ریاستی حل کا دوٹوک طور پر ازسرنو اعادہ کرے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے او آئی سی اور اسلامی دنیا کے ساتھ مل کر فلسطینی عوام اور ان سے وعدہ کردہ وطن کیلئے ان کی جائز امنگوں کے ساتھ ہمیشہ یکجہتی کا اظہار کیا ہے،او آئی سی کے صدر نشین کی حیثیت سے پاکستان کو قرارداد نمبر 476 اور 478 سمیت سلامتی کونسل میں قراردادیں پیش کرنے پر فخر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان متفقہ بین الاقوامی پیرا میٹرز، 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر قابل عمل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے اپنے مطالبہ کا اعادہ کرتا ہے جس کا دارالخلافہ القدس شریف ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ بحیثیت او آئی سی ہمیں دو کلیدی سوالات پر سنجیدگی سے خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ اولاً کہ ہم اس راستے پر کیسے آئے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے یکجہتی اور اتحاد کے اپنے اظہار کو ٹھوس شکل نہیں دی، یہ نہ صرف فلسطین کیلئے بلکہ دیگر مشترکہ مقاصد کیلئے بھی سچ ہے،دنیا وسعت اور شدت کے لحاظ سے اسی قسم کے المیہ کی شاہد ہے، گذشتہ 70 سال سے جموں و کشمیر کے عوام بھارت کے غیر قانونی تسلط میں ہیں، کشمیری عوام کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور انہیں ان کے حق خود ارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے معاملہ پر بھی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا اور کشمیری عوام کی اپنی آزادی کیلئے منصفانہ جدوجہد کو دہشت گردی کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سیاسی، اقتصادی، مواصلاتی اور تکنیکی کمزوریوں پر قابو پائے بغیر اپنے بھائیوں کا پائیدار دفاع کرنے سے قاصر ہوں گے خواہ وہ فلسطین میں ہوں یا کشمیر میں۔اسی درپیش صورتحال کے باعث امریکہ نے سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کا نہایت پریشان کن قدم اٹھایا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دوسرا کلیدی سوال یہ ہے کہ ہمارا ردعمل کیا ہونا چاہئے؟ کیا ہمیں اسے اپنا مقدر سمجھ کر قبول کر لینا چاہئے؟، ہم امید کرتے ہیں کہ غم و غصہ کے اظہار کے چند مظاہرے جوں کی توں صورتحال کی قبولیت میں تحلیل نہیں ہوں گے۔


وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا ردعمل واضح اظہار اور یکجہتی و اتحاد کی تجدید ہونا چاہئے، ہمیں فوری طور پر اپنے سیاسی اختلافات کو بھی ختم کرنا ہے، ہمیں اپنی خوبیوں کو مجتمع کرتے ہوئے مربوط پروگرام اور مشترکہ اقدام کی ضرورت ہے، یہی بیرونی دباؤ کو روکنے اور نقصانات سے بچاؤ کا ضامن ہو گا اور انہی اقدامات کی بدولت ہم اپنی قسمت کا فیصلہ خود کر پائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم کئی آپشنز غور کیلئے تجویز کریں گے، سفارتی طور پر اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جواب دینے سے قاصر رہتی ہے تو جنرل اسمبلی میں ہمیں حمایت حاصل کرنی ہے، دوسرا، قابض افواج کے رویوں کو تبدیل کرنے کیلئے او آئی سی کے اقتصادی اقدامات پر عمل کرنا ہے، تیسرا یہ کہ حالیہ اقدام پر عالمی عدالت انصاف سے مشاورتی رائے لی جائے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ او آئی سی سربراہ اجلاس امریکہ کے نظرثانی شدہ فیصلہ کو متفقہ طور پر مسترد کرے، دنیا بھر کے مسلمان انصاف اور آزادی کیلئے اکٹھے ہوں، ہمیں بین الاقوامی برادری میں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے کوشش کرنے والوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہونا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ القدس شریف کے دارالحکومت کے ساتھ فلسطینی عوام کیلئے ایک خود مختار وطن مسلم امہ اور او آئی سی کیلئے بدستور واحد روڈ میپ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کے پاس انصاف کے اصولوں کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا موقع ہے، پاکستان سلامتی کونسل پر زور دیتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ چارٹر کے تحت اپنا کردار ادا کرے، عالمی امن و سلامتی برقرار رکھنے کیلئے اپنے بنیادی کردار میں ناکامی پر اس کی ساکھ متاثر ہو گی۔ اجلاس سے سعودی فرماروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب فلسطینیوں کے حقوق کے حصول تک ان کی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی،بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں میں انصاف کے تقاضوں کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی میں عوام اور نجی اداروں کی شرکت میں مدد اور سہولتیں فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو روکنے کیلئے سرگرم ہیں۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل دہشت گرد ریاست ہے، انہوں نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور اخلاقیات کی اقدار کے منافی ہے جبکہ امریکی فیصلہ انتہا پسندوں کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین کے رقبے میں نمایاں کمی آرہی ہے، اسرائیل قابض اور دہشت گرد ریاست ہے جب کہ امریکی فیصلہ اسرائیل کے دہشت گردی اقدامات پر انہیں تحفہ دینے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم آزاد فلسطینی ریاست کے مطالبے سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم فلسطین کے امن عمل میں امریکہ کے کسی کردار کو تسلیم نہیں کرتے، عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر دنیا خاموش نہیں رہ سکتی۔فلسطینی صدر نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے مسلمانوں اور مسیحیوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف نکلیں، ہم سب کو مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلے کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔محمود عباس نے کہا کہ ہم مزاحمتی تنظیم (پی ایل او) کو دہشتگرد تنظیم کہنے کے اعلان کو بھی مسترد کرتے ہیں۔ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ امن عمل میں ایماندار ثالث نہیں جب کہ فلسطینی عوام اپنے حقوق کے حصول پر زور دے رہے ہیں۔ ترک صدر کی اپیل پر بلائے جانے والے او آئی سی کے اجلاس میں فلسطینی صدر محمود عباسی، اردن کے بادشاہ عبداللہ دوئم، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، آذربائیجان کے صدر الہام الیو، ایرانی صدر حسن روحانی اور بنگلہ دیش کے صدر عبدالحامد سمیت 22 اسلامی ممالک کے سربراہان اور 25 ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شریک ہیں۔اس سے قبل او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے امریکی اعلان کی شدید مذمت کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں