244

انسداد دہشتگردی کیس: عدالت نے عمران خان کو بڑا جھٹکا دے دیا


اسلام آباد(ویب ڈیسک) انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران خان کے خلاف 4 مقدمات میں دہشتگردی کی دفعات ختم کرنے کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 19 دسمبر تک توسیع کرتے ہوئے دوبارہ طلب کر لیا۔تفصیلات کے مطابق پراسیکیوٹر نے عدالت میں بتایا کہ عمران خان اور طاہرالقادری نے سینکڑوں کارکنان کوتشدد کیلئے جمع کیا،حملوں میں 26 پولیس افسران و اہلکار زخمی ہوئے، عمران خان کی کارکنان کو تشدد کے لیے اکسانے کی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔ پراسکیوٹر نے کہا پی ٹی آئی کارکنان نے سرکاری ٹی وی پر حملہ کر کے نشریات بند کیں، لہذا دہشتگردی کی دفعات ختم نہ کی جائیں۔عمران خان پہلے کیس میں تین سال تک مفرور رہے اور پیش ہوتے ہی عدالت کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھا دیا، ملزم کو اس کیس ضمانت بھی نہیں ملنی چاہیے۔پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دھرنا طاقت کے ذریعےمنتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے تھا۔بابر اعوان نے کہا کہ ان مقدمات میں دہشتگردی کا کوئی عنصر نہیں، اگر کوئی جرم ہوا بھی تو وہ دہشتگردی کا جرم نہیں۔اس موقع پر پراسیکیوٹر نے عمران خان کے خلاف ایف آئی آر کا متن اور ان کی تقاریر پڑھ کر سنائیں، پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنے کارکنان کو اشتعال دلایا اور وزیراعظم ہاؤس پر قبضہ کرنے کا کہا۔بابر اعوان نے کہا کہ صرف تقاریر پر دہشت گردی کا مقدمہ نہیں بنایا جاسکتا، پھر تو پاناما کا فیصلہ آنے کے بعد حکومتی وزرا پر 2 ہزار پرچے بننے چاہیے تھے۔ جس پر عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اعتراض کیا اور کہا اگر بیان پر دہشتگردی کے مقدمات بنانے ہیں تو حکومتی وزراء پر بھی بننے چاہئیں، پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد حکومتی وزراء نے عوام کو تشدد پر ابھارا، کیا بنٹے برآمد کر کے سزائے موت دی جاسکتی ہے؟۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں