68

راؤ انوار کی پاکستان سے بھاگنے کی کوشش ناکام

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) ذرائع کے مطابق راؤ انوار نے اپنی سفری دستاویزات ایک ساتھی کے ذریعے اسلام آباد ایئرپورٹ بھجوائیں، جن میں 20 جنوری کو جاری کیا گیا سندھ حکومت کا این او سی (اجازت نامہ) بھی شامل تھا۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ نے راؤ انوار کی دستاویزات کو شک کی بنا پر مسترد کردیا، تاہم انہیں حراست میں نہیں لیا گیا۔دوسری جانب راؤ انوار نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ وہ بالکل ٹھیک اور خیریت سے ہیں اور میڈیا پر ان کے دبئی فرار ہونے کی

کوشش سے متعلق خبر غلط ہے۔یاد رہے کہ راؤ انوار نے 13 جنوری کو کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 27 سالہ نوجوان نقیب اللہ محسود کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقتول کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے تھا۔تاہم نقیب کے اہلخانہ نے راؤ انوار کے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دے دیا تھا جس کے بعد نوجوان کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے کیے گئے اور چیف جسٹس پاکستان نے بھی اس معاملے کا از خود نوٹس لیا۔بعدازاں سوشل میڈیا اور میڈیا پر معاملہ اٹھنے کے بعد آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی تھی۔تحقیقاتی کمیٹی نے نقیب اللہ کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے پولیس پارٹی کے سربراہ ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو معطل کرکے گرفتار کرنے اور نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بھی سفارش کی جس پر انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔دوسری جانب نقیب اللہ کے قتل میں ملوث پولیس پارٹی کو بھی معطل کیا جاچکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں