21

چکری کے قریب حادثے میں جاں بحق ہونے والے جنرل (ر)خالد شمیم وائیں کون تھے اور پاک فوج میں ان کے بارے میں کیا مشہور تھا ؟ایسی باتیں سامنے آ گئیں کہ جان کر آپ کی آنکھیں بھی نم ہو جائیں گی

چکری کے قریب حادثے میں جاں بحق ہونے والے جنرل (ر)خالد شمیم وائیں کون تھے اور پاک فوج میں ان کے بارے میں کیا مشہور تھا ؟ایسی باتیں سامنے آ گئیں کہ جان کر آپ کی آنکھیں بھی نم ہو جائیں گی
تفصیلات کے مطابق چکری کے قریب ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل (ر)خالد شمیم وائیں پاک فوج میں پروفیشنل ازم اور اپنے جذبہ حب الوطنی کی وجہ سے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ،وہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر ہونے سے قبل انفنٹری کمانڈر سے کور کمانڈر تک مختلف عہدوں پر نو سال تک بلوچستان میں بھی تعینات رہے جبکہ ان کے ہمعصر فوجی افسران کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے بارے میں لسانی، سیاسی، سماجی، ثقافتی اور سیکیورٹی کے اعتبار سے جتنا مشاہدہ اور معلومات جنرل وائیں کو حاصل تھیں اتنی شاید ہی کسی فوجی افسر کو ہوں۔

یا د رہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں جب بلوچستان میں فوجی آپریشن ہوا تو اس وقت جنرل وائیں کور کمانڈر تھے اور فوجی ذرائع کے مطابق نواب اکبر بگٹی سمیت بعض مختلف معاملات میں ان کی رائے کو ’’ ویٹو‘‘ کیا جاتا رہا۔جنرل خالد شمیم وائیں کے والد ارشد شمیم وائیں بھی پاک فوج میں کرنل تھے اور وہ 1972ء میں ریٹائر ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرحوم جنرل(ر) خالد شمیم وائیں نے فوج میں شمولیت اپنے والد کی کمانڈ میں پنجاب رجمنٹ کی بیسویں بٹالین میں کی تھی۔سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع سے قبل جنرل(ر) خالد شمیم وائیں سب سے سینئر جنرل تھے ،سابق صدر آصف علی زرداری جنرل اشفاق پرویز کیانی کو مدت ملازمت میں توسیع نہ دیتے تو جنرل وائیں یقیناًآرمی چیف بن سکتے تھے لیکن جنرل کیانی کو تین سالہ توسیع ملنے پر وہ آرمی چیف نہ بن سکے ۔حسن ابدال کیڈٹ کالج سے انٹرمیڈیٹ کرنے والے جنرل(ر) خالد شمیم وائیں طالبعلمی کے دور میں کرکٹ کھیلتے رہے اور تا دم مرگ وہ اس کھیل کے بڑے شوقین تھے ، وہ اکثر جرنیلوں کی طرح گولف بھی کھیلتے تھے۔ انہوں نے جرمنی کے ہیمبرگ ملٹری اکیڈمی سے تربیت حاصل کی اور دنیا کے بلند ترین جنگی میدان سیاچن میں انفنٹری بریگیڈ کی کمان بھی کر چکے تھے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں