37

’’اگر اچانک مجھ پر دل کا دورہ پڑے اور میں مرجاؤں تو آپ کواس شخص …‘‘ کینسر میں مبتلا چینی وزیر اعظم کی ایسی حیران کن بات جس نے امریکی صدرکو چونکا کر رکھ دیا

لاہور(ایس چودھری )جدیدچین کے معمار چو این لائی اپنے آخری سالوں میں جب امریکہ کے ساتھ تعلقات قائم کررہے تھے اور انہیں چینی عوام اور روس کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرناپڑرہاتھا ،ان حالات میں انکی صحت خراب ہوچکی تھی مگر چینی عوام اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ چو این لائی ایک سنگین بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ ان پر کئی بار دل کا دورہ پڑچکا تھا اور اب تشخیص ہوچکا تھا کہ انہیں کینسر ہے۔ اس بیماری اور نقاہت کے بعد انہوں نے کسی پر ظاہر نہیں ہونے دیا کہ وہ بیمار ہیں اور اگر بیمار بھی ہیں تو کس سنگین بیماری میں مبتلا ہیں۔ انہیں مذاکرات میں مسلسل مشغول رہنا پڑرہا تھا۔ ان دنوں(1973) جب امریکی صدر نکسن سات روزہ دورے پر چین آئے ہوئے تھے تو چواین لائی کی حالت دگرگوں تھی ،انہیں اس حالت میں بھی وہ سماجی تقریبات، عشائیے اور ظہرانے بھگتانا پڑتے تھے جو صدر امریکا کی پذیرائی کے لئے منعقد کئے جارہے تھے اور چواین لائی کو بہ حیثیت وزیراعظم ان میں شریک ہونا ہوتا تھا۔ مذاکرات کے درمیان یہ البتہ دیکھا جاتا تھا کہ وہ مختلف وقفوں سے مختلف اقسام کی گولیاں کھاتے رہتے تھے۔
ایک روز گفتگو کے دوران انہوں نے صدر نکسن سے عجیب بات کہی یا ان کے منہ سے نکل گئی۔
’’اگر اچانک مجھ پر دل کا دورہ پڑے اور میں مرجاؤں تو آپ کو اس سے گفتگو کرنی پڑے گی جو میری جگہ لے گا۔ یہ سلسلہ رکنا نہیں چاہیے۔‘‘ یہ بات انہوں نے غیر ارادی طور پر کہہ دی تھی۔ وہ اپنے مہمان کو بتانا نہیں چاہتے تھے کہ وہ مرنے والے ہیں لیکن انہیں اپنی حالت کا اندازہ بھی تھا۔
’’یہ بات آپ اس لئے تو نہیں کہہ رہے ہیں کہ آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہے؟‘‘ صدر نکسن نے چونک کر پوچھا ۔
’’اتنی بھی خراب نہیں کہ میں مر ہی جاؤں۔‘‘ چوائن لائی نے مصنوعی ہنسی ہونٹوں پر لاتے ہوئے کہا
’’پھر آپ نے یہ بات کیوں کی؟‘‘ صدر نکسن نے پوچھا
’’ اس لئے کہہ موت کسی بھی شخص کوکسی بھی وقت آسکتی ہے ۔اور میں نہیں چاہتا کہ مذاکرات میں تعطل پیدا ہو ۔یہ ایک مفروضہ تھا جو میں نے کہا ہے‘‘۔یہ بات تو آئی گئی ہوگئی لیکن مذاکرات جاری رہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں