96

بریکنگ نیوز: معروف عالمی صحافی کرسٹینا فیئر نے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے کلبھوشن یادیو سے متعلق تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

بریکنگ نیوز: معروف عالمی صحافی کرسٹینا فیئر نے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے کلبھوشن یادیو سے متعلق تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستان بالخصوص بلوچستان میں دہشتگردی کرانیوالے بھارتی جاسوس اور سزائے موت کے مجرم کلبھوشن یادیو کی اہلخانہ سے ملاقات کے بعد ایک مرتبہ پھر بھارتی میڈیا نے پاکستان کیخلاف زہراگلناشروع کردیا اور ہرممکن ہرحدتک کلبھوشن یادیو کو ”معصوم“ قراردینے کی کاوش میں ہے تاہم اب معروف عالمی صحافی اور واشنگٹن کی ایک یونیورسٹی کی

سیکیورٹی سٹڈیز پروگرام کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کرسٹینا فیئر نے بھارت کا پول کھول دیا اور سچ دنیا کے سامنے لے آئیں جس پر بھاریتوں کو بھی شدید مرچیں لگ گئیں ۔ اپنے ایک ٹوئیٹ میں کرسٹینا فیئرنے لکھاکہ ” ایک دفعہ بھارتی حکام نے مجھے بتایاکہ وہ بلوچستان میں رقم بھیج رہے ہیں تاہم اس کا مفہوم واضح نہیں تھا، یہ بات مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہوئی تھی ، بھارت اتنا معصوم نہیں جتنا دعویٰ کرتاہے اور نہ ہی اتنا ذمہ دار ہے جتنا پاکستان ٹھہراتا ہے

“۔کرسٹینا کی یہ ٹوئیٹ سامنے آتے ہی بھارتیوں کو بھی شدید مرچیں لگ گئیں اور اپورو شکلا نے لکھاکہ” تاہم جب حامد میرنے کہاتو آپ نے خود اسے زیدان کے ذریعے بلوچستان میں مداخلت کا بتایا، وہ ایک سفید جھوٹ تھا نا ؟؟؟اس پر احتجاج ہونا چاہیے ، ذاتی تبادلہ خیال کا کوئی ثبوت نہیں تھا اور

پھر انہوں نے اپنے مفاد میں اسے استعمال کیا۔ واضح رہے کہ اس سےقبل اسلام آباد: پاکستان میں قید بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیو سے اس کی اہلیہ اور والدہ کی ملاقات کرادی گئی۔دفتر خارجہ کے اولڈ بلاکس میں بھارتی جاسوس کلبھوشن سے اس کے اہلخانہ کی مخصوص کمرے میں ملاقات کرائی گئی

جہاں شیشے کے ایک طرف جاسوس کلبھوشن اور دوسری طرف اس کی والدہ آونتی سودھیر اور بیوی چیتنا یادیو موجود تھیں۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی والدہ، بیوی اور ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ بھارت سے بذریعہ دبئی بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے، جس کے بعد انہیں سخت سیکیورٹی میں بھارتی ہائی کمیشن لے جایا گیا جہاں کچھ دیر قیام کے بعد انہیں دفتر خارجہ لے جایا گیا۔ کلبھوشن نے اپنے اہلخانہ سے انٹرکام کے ذریعے بات چیت کی جس کی ریکارڈنگ بھی کی گئی

جب کہ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ملاقات تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔ ملاقات کے دوران بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ اور پاکستانی دفتر خارجہ کی ڈائریکٹر انڈیا ڈیسک ڈاکٹر فاریحہ بھی موجود تھیں۔جاسوس کلبھوشن کی والدہ، اہلیہ اور بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ ایک بجکر 25 منٹ پر دفتر خارجہ پہنچے،

جس کے بعد انہیں قیام گاہ میں بٹھایا گیا اور مکمل سیکیورٹی چیکنگ کے بعد 2 بجکر 18 منٹ پر مخصوص کمرے میں لے جایا گیا جہاں جاسوس کلبھوشن یادیو پہلے سے موجود تھا۔بعد ازاں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کلبھوشن یادیو کی درخواست پر ملاقات کا دورانیہ 10 منٹ تک بڑھایا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں