17

کلبھوشن کی اہل خانہ سے ملاقات اسلام آباد میں ہو گی

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جاسوسی کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے انڈین شہری کلبھوشن جادھو کی ان کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات اسلام آباد میں دفترِ خارجہ میں کروائی جائے گی۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ ہوائی جہاز کے ذریعے پاکستان پہنچیں گی اور انھیں اسلام آباد کا ویزہ جاری کیا گیا ہے۔

پاکستان بھارتی جاسوس کی خاندان سےملاقات کرانے پر راضی

کلبھوشن جادھو کب مرے گا؟

یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان نے کلبھوشن جادھو سے ان کی بیوی اور والدہ کی ملاقات کروانے کے لیے 25 دسمبر کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابھی تک کلبھوشن کو پھانسی دینے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

اس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا تھا کہ کلبھوشن جادھو کی اہلیہ اور والدہ کو نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے ‘انسانی حقوق کی بنیادوں اور اسلامی شعار کے تحت‘ ویزے جاری کیے ہیں۔

ترجمان نے نامہ نگار حمیرا کنول کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں اپنا جواب 13 دسمبر کو جمع کروا دیا تھا اب عدالت اگلی پیشی کی تاریخ دے گی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں قید مبینہ انڈین جاسوس کو ملک کی فوجی عدالتوں نے موت کی سزا سنائی تھی جبکہ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کی پھانسی پر عمل درآمد اس وقت تک موخر کر رکھا ہے جب تک انڈیا کی طرف سے اس سزا کے خلاف دی گئی درخواست پر فیصلہ نہیں سنا دیا جاتا۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ ‘عدالت نے یہ نہیں کہا تھا کہ کوئی سزا نہیں دے سکتے کورٹ نے کہا تھا کہ موت کی سزا نہیں دے سکتے۔ ہم نے بھی کورٹ کو یہی بتایا تھا کہ ہم موت کی سزا ابھی نہیں دینا چاہتے ابھی تو اس کا پراسس چل رہا ہے۔’

یاد رہے کہ مارچ میں انڈین شہری کلبھوشن جادھو کو پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

گذشتہ روز سینیٹ اراکین کو بریفنگ کے دوران بھی انڈیا کی جانب سے سرحدی حدود کی خلاف ورزی اور کلبھوشن کی پاکستان میں سرگرمیوں کے بارے میں بتایا گیا تھا۔

پاکستان کے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ‘ہم یہ سمجھتے ہیں کہ انڈیا سے ہمارے اختلافات جنگ کی بجائے امن اور مذاکرات سے حل ہو سکتے ہیں اور اس صورت میں اگر حکومت یہ فیصلہ کرتی ہے اور انڈیا سے مذاکرات کرتی ہے تو فوج بالکل ان کی پشت پر کھڑی ہو گی۔ ہم انڈیا، افغانستان سمیت سب ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں