48

ہندوستان کی ریاست گجرات کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات کی گذشتہ دو مہینوں کی مہم کے دوران یہ راگ الاپا جارہا تھا کہ اس بار بھارتیا جنتا پارٹی اور کانگریس کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوگا لیکن بالاخر جیت بھارتیا جنتا پارٹی کی ہوگی اور ایسا ہی ہوا۔ نریندر مودی کی بھارتیا جنتا پارٹی نے ان انتخابات میں 99 نشستیں جیتی ہیں اور اس کے مقابلہ میں کانگریس صرف 80 نشستیں حاصل کر پائی ہے۔ یوں یہ گجرات میں مودی کی چھٹی انتخابی جیت ہے۔

نریندر مودی کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ ”وکِاس ” (ترقی ) کی فتح ہے۔ اول تو اسے فتح کہنا صحیح نہیں کیونکہ گزشتہ انتخابات میں مودی کی پارٹی کو 115 نشستیں ملی تھیں جو اب صرف 99 رہ گئی ہیں۔ دوم عملی طور پر یہ انتخابات وکاس کی بنیاد پر نہیں لڑے گئے۔ ترقی کا انتخابی مہم کے دوران کوئی ذکر نہیں ہوا بلکہ نریندر مودی کی مہم کا تمام تر زور پاکستان اور مسلمانوں کے خوف پر رہا ہے۔ انتخابی مہم کے آخری دنوں میں جب نریندر مودی نے دیکھا کہ ہوا کا رخ کانگریس کی سمت ہے تو انہوں نے دہلی میں کانگریس کے معطل رہنما منی شنکر آئیر کے مکان پر اس عشائیہ پر زبردست ہنگامہ برپا کیا جس میں ہندوستان کے سابق وزیرِاعظم من موہن سنگھ اور پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ خورشید قصوری اور دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر اور دوسرے رہنما اور صحافی شریک تھے۔ نریندر مودی نے شور مچایا کہ اس دعوت میں انہیں گجرات میں ہرانے کی سازش رچی گئی تاکہ سونیا گاندھی کے سیکرٹری احمد پٹیل کو گجرات کا وزیرِاعلیٰ بنایا جا سکے۔

مودی کا یہ الزام مضحکہ خیز تھا۔ وہ من موہن سنگھ کی حب الوطنی پر شک کر رہے تھے جو دو بار ہندوستان کی وزارتِ اعظمیٰ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ من موہن سنگھ کو اس الزام پر اس قدر غصہ آیا کہ انہوں نے نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ معافی مانگیں۔ الزام کی گولی نکل چکی تھی اور بھارتیا جنتا پارٹی کے وفا دار میڈیا نے یہ الزام اس قدر مشتہر کیا کہ گجرات کے عوام کی اکثریت اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔

انتخابات میں پاکستان کی سازش کے الزام کے ساتھ نریندر مودی نے اپنے حریف اور کانگریس کے صدر راہول گاندھی پر دو دھاری کاری وار کیا اور انہیں موجودہ ہندوستان کا اورنگ زیب قرار دیا۔ مودی کے اس وار کا مقصد ایک طرف ہندوئوں میں مسلمانوں کے خلاف اس نفرت کی آگ بھڑکانا تھا جو عام طور پر اورنگ زیب کے خلاف ہندوئوں میں سلگتی رہتی ہے۔ دوسری جانب اس کا مقصد اپنے سیاسی حریف راہول گاندھی کو اورنگ زیب قرار دے کر مسلم نواز ثابت کرنا تھا۔ ہندوستان کے سنجیدہ افراد کا کہنا تھا کہ یہ الزام لگانا ہندوستان کے وزیرِاعظم کو زیب نہیں دیتا تھا لیکن انتخابی مہم کا جوار بھاٹا چونکہ کانگریس کے حق میں جارہا تھا اس لئے مودی نے گھبرا کر یہ حکمت عملی اختیار کی۔

گجرات کے انتخابات کی تاریخ کا تعین بھی بے حد معنی خیز تھا، یہ انتخابات بابری مسجد کی مسماری کی چوبیسویں برسی کے بعد ہوئے تاکہ ہندوئوں میں بابری مسجد کی مسماری کی یاد تازہ کی جائے اور ان کے جذبات کو جوش دلایا جائے اور ساتھ ہی ساتھ مسجد کی مسماری کا سہرا بھی بھارتیا جنتا پارٹی کے سر باندھ دیا جائے۔
بھارتیا جنتا پارٹی کے رہنمائوں نے انتخابی مہم کے دوران گجرات کے ہندوئوں کو ڈرایا تھا کہ اگر کانگریس جیت گئی تو مسلمان ریاستی حکومت پر چھا جائیں گے اور گجرات کے 2002ء کے مسلمانوں کے قتل عام کا ہندوئوں سے بھرپور انتقام لیں گے اور مسلمان ریاست میں غنڈہ گردی کریں گے جس میں ہندو خواتین محفوظ نہیں رہیں گی۔ بھارتیا جنتا پارٹی کے وفادار میڈیا نے، جس میں زی نیوز، ٹایمز نائو، ری پبلک ٹی وی اور انڈیا ٹی وی پیش پیش تھے، نہ صرف انتخابات میں پاکستان کی مداخلت کی سازش کے الزام بلکہ مسلمانوں کے انتقام کا خوف بھڑکانے کی بھرپور کوشش کی۔ اس مہم کے پیچھے سرمایہ دار اڈانی گروپ کا ہاتھ بتایا جاتا ہے جسے گذشتہ جون میں مودی سرکار نے اسپیشل اکنامک زونز میں تبدیلی کے ذریعہ 500 کروڑ روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔
گجرات میں مسلمانوں کی تعداد 9 فی صد سے زیادہ ہے لیکن ان انتخابات کی پوری مہم میں مسلمانوں کے ان مسائل کا قطعی کوئی ذکر نہیں کیا گیا جن کا وہ 2002ء کے مسلمانوں کے قتل عام کے بعد سے برابر سامنا کر رہے ہیں۔ کانگریس نے بھی عمدا مسلمانوں کی بہبودی کے مسائل کا کوئی ذکر نہیں کیا اس خوف سے کہ کہیں اس پر مسلمانوں کی حمایت کا الزام عائد نہ کر دیا جائے خاص طور پر نفرت کی اس فضا کے پیش نظر جو پچھلے پندرہ برس سے مسلمانوں کے خلاف ہندووں میں طاری ہے۔

اس ماحول میں کانگریس نے بھی بھارتیا جنتا پارٹی کے جوگی رنگ کی شال اوڑھ رکھی تھی۔ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے انتخابی مہم کے دوران ایک بار بھی لفظ مسلم استعمال نہیں کیا، ہندوئوں سے اتنے خوف زدہ کہ 2002ء کے مسلم کُش خونریز فسادات کے بارے میں سانس تک نہیں لی۔ ہندوستان کے بہت سے مسلمان رہنما کہتے ہیں کہ ہندو قوم پرست جماعت بھارتیا جنتا پارٹی کو کیا دوش دیں کانگریس نے بھی گجرات کے مسلمانوں کے ساتھ یتیموں کی طرح برتائو کیا۔ نتیجہ یہ کہ ان انتخابات میں گجرات کے 80 لاکھ مسلمانوں میں سے صرف تین مسلمان ریاستی اسمبلی میں منتخب ہوئے ہیں۔
البتہ گجرات کے ان انتخابات کے دوران ہندوستان کی سیاست کا ایک اہم پہلو نوجوان دلتوں اور بائیں بازو کا اتحاد سامنے آیا ہے۔ اس اتحاد کی قیادت تین نوجوانوں،جگنیش میوانی ، ہردیک پٹیل اور الپیش ٹھاکر کے ہاتھ میں ہے۔ ان میں جگنیش میوانی پپچھلے سال اس وقت سیاسی منظر عام پر آئے تھے جب گجرات میں گائے رکھشکوں(محافظوں) نے اونا کے مقام پر ایک گائے کو ہلاک کرنے کے الزام میں، ان دلتوں کے گھر میں گھس کر جو مردہ گایوں کی کھال اتار تے ہیں، سات دلت نوجوانوں کو باہر نکال کر مار مار کر ادھ موا کردیا تھا اور انہیں برہنہ کر کے 25 میل تک ان کا جلوس نکالا تھا۔ ان میں سے دو دلت معذور ہو گئے تھے۔ اس سانحہ کے خلاف پورے گجرات میں دلتوں کے احتجاج کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ دلتوں نے اس ظلم کے خلاف ایک تحریک شروع کی اور ”آزادی کی کوچ” کے نام سے ریاست میں مارچ نکالی۔

36 سالہ دلت وکیل جگنیش میوانی نے اس تحریک کی قیادت سنبھالی۔ آزادی کی کوچ کے دوران جگنیش میوانی نے نعرہ دیا” تم گائے کی دم رکھو، ہمیں ہماری زمین دو” اس مارچ کے دوران دلتوں نے یہ عہد کیا کہ وہ آئیندہ مردہ گائوں کی نہ کھال اتاریں گے اور نہ ہی انہیں اٹھائیں گے۔ جگنیش میوانی کے استاد مشہور وکیل مکل سنہا ہیں جنہوں نے 2002ء کے مسلمانوں کے قتل عام کے بہت سے متاثرین کے مقدمات لڑے ہیں۔ مسلمانوں میں وہ مسیحا کے نام سے مشہور ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران جگنیش میوانی نے اس پر زور دیا تھا کہ دلتوں کی آزادی کے لیے ضروری ہے کہ فاشسٹ خطرہ کا مقابلہ کیا جائے اور ہندووتا کی قوتوں کو شکست دی جائے۔ اب اس کا امکان ہے کہ دلتوں بہو جن اور بائیں بازو کی تحریک کو فروغ حاصل ہو اور یہ صرف گجرات تک محدود نہ رہے بلکہ پورے ملک میں یہ اتحاد ابھرے جو بھارتیا جنتا پارٹی اور اس کے نیتا نریندر مودی کو للکار سکے،لیکن فی الحال ریاستی انتخابات میں بھارتیا جنتا پارٹی کی جیت کے بعد گجرات میں مسلمانوں کو خطرہ ہے کہ ہندووتا کے حامیوں کے سینے پھول جائیں گے اور وہ نفرت کی فضا میں گھر جائیں گے۔

پہلے ہی مسلمان اقتصادی مشکلات کا شکار ہیں اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے پریشان ہیں، مودی کی پارٹی کی جیت کے بعد حالات اور زیادہ باعث تشویش ہوجائیں گے، اس وقت ملک میں ہندووتا کی قوتیں جس تیزی سے مقبول ہورہی ہیں اس کے پیش نظر دو سال بعد ملک میں عام انتخابات میں بھی خطرہ ہے کہ بھارتیا جنتا پارٹی کو جیت ہو اور ہندووتا کا راج مضبوط ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں